برازیل کے صدارتی انتخاب میں شکست کھانے والے دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو کے ملک چھوڑ کر امریکہ روانہ ہونے کی اطلاعات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے منگل کو کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ انہیں اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کرے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب ایک روز قبل برازیل کی سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں فلاویو بولسونارو کو اپنے پاسپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔ وہ کسی غلط کام کی تردید کرتے ہیں اور پیر کو انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں اور وہ اپوزیشن کی قیادت کریں گے۔
سابق صدر ژائیر بولسونارو کے بیٹے فلاویو 25 اکتوبر کے رن آف میں صدر لولا ڈا سلوا سے 44 لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہار گئے تھے۔ انہوں نے ابتدا میں نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا، تاہم پیر کو ان کی جماعت نے انتخابی نتائج قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
صدر لولا نے اپنی 81ویں سالگرہ کے موقع پر برازیلیا میں کہا کہ "جو شخص چپکے سے ملک سے نکل جائے، اس کے پاس چھپانے کو کچھ ضرور ہوتا ہے"۔ انہوں نے اس اقدام کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلاویو کو ملک میں رہ کر اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہیے تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی نتائج پر شک کا اظہار کرتے ہوئے اسے "ایک اور دھاندلی زدہ انتخاب" جیسا قرار دیا، تاہم انتخاب میں بے ضابطگی کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ امریکی ڈیموکریٹ رکن کانگریس جواکن کاسترو نے ٹرمپ انتظامیہ سے وضاحت طلب کی ہے کہ فلاویو کی روانگی میں اس کا کیا کردار تھا۔
