اسرائیل میں منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے ایگزٹ پولز میں کسی بھی جماعت یا اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت ملتی نظر نہیں آ رہی۔ ذرائع کے مطابق بڑے اسرائیلی ٹی وی چینلز کے جائزوں میں وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی لیکود کی قیادت میں اتحاد اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد، دونوں کو 120 رکنی کنیسٹ میں 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔
حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں، اس لیے دونوں بلاک اکثریت سے دور ہیں۔ دوسری جانب عرب قیادت والی جماعتیں، جو کسی اتحاد کا حصہ نہیں، 18 نشستیں جیتتی دکھائی دے رہی ہیں، جو ان کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہو گی اور انہیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار دے سکتی ہے۔
نیتن یاہو اور اپوزیشن کے دعوے
آئزنکوٹ نے کہا کہ نتائج نیتن یاہو پر عدم اعتماد کا اظہار ہیں، جبکہ اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے اسے وزیر اعظم کے بلاک کی "کچلنے والی شکست" قرار دیا۔ لیکود کے رہنما اور وزیر خارجہ گیدون سار نے اپوزیشن کے جشن کو قبل از وقت کہتے ہوئے یاد دلایا کہ لیکود اب بھی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔
آگے کیا ہوگا
حتمی نتائج 4 نومبر کو آئیں گے، جس کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ جماعتوں سے مشاورت کر کے اس امیدوار کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کی کامیابی کے امکانات سب سے زیادہ ہوں۔ اس امیدوار کے پاس 28 دن ہوں گے جن میں 14 دن کی توسیع ہو سکتی ہے۔ ناکامی کی صورت میں پارلیمان تحلیل ہو کر نئے انتخابات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، اور اس دوران نیتن یاہو نگران وزیر اعظم کے طور پر برقرار رہیں گے۔
19 برس تک وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے والے نیتن یاہو ماضی میں کئی سیاسی بحرانوں سے بچ نکلے ہیں، اسی لیے مبصرین ابھی ان کی جیت یا سیاسی کیریئر کے خاتمے کا اعلان کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
