نائیجیریا کی شمال مشرقی ریاست تارابا کے دور افتادہ گاؤں بنّاری پر مسلح افراد کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کم از کم 62 ہو گئی ہے۔ ریاست میں قومی ہنگامی انتظامی ادارے کے سربراہ لادن ایوبا نے منگل کو اس تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے بعد ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جمعے کو ہونے والے اس حملے میں مسلح گروہ نے گاؤں کے گھروں، دکانوں، خوراک کے ذخیروں اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی۔ تارابا پولیس کے ترجمان وکٹر مشیلیزا کے مطابق اہلکار اب بھی علاقے میں موجود ہیں اور لاشیں ملنے کے ساتھ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نائیجیریا شاخ نے حکام کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شمال کی دیہی آبادیاں مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دی گئی ہیں۔ تنظیم نے حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور متاثرین کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ محض مذمتی بیانات کافی نہیں۔
نائیجیریا پندرہ برس سے زیادہ عرصے سے سکیورٹی بحران کی لپیٹ میں ہے، جس کا آغاز بوکو حرام کی مسلح بغاوت سے ہوا تھا۔ ملک کے شمال میں عام شہریوں پر حملے اور تاوان کے لیے اغوا معمول بن چکے ہیں، جبکہ غیر قانونی کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی نے کئی مسلح گروہوں کو مزید طاقتور بنا دیا ہے۔
