پاکستان اور افغانستان کی سرحدی فورسز کے درمیان اتوار کو سرحد کے کئی مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث مصروف ترین تجارتی گزرگاہ طورخم تقریباً پانچ گھنٹے بند رہی، جبکہ لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں کشیدگی برقرار ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق طورخم پر فائرنگ اس وقت شروع ہوئی جب افغان حکام نے سرحد کے قریب متنازع زنگلی چیک پوسٹ پر دوبارہ تعمیراتی کام شروع کیا۔ یہ چوکی سرحد سے 100 میٹر کے دائرے کے اندر افغان جانب واقع ہے، جبکہ دونوں ممالک پہلے اس بات پر متفق ہو چکے تھے کہ اس فاصلے کے اندر کوئی سکیورٹی ڈھانچہ تعمیر نہیں کیا جائے گا۔ ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی، جس سے واپس جانے والے افغان شہریوں اور مقامی آبادی میں خوف پھیل گیا۔ پاکستانی جانب کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ثالثوں کے ذریعے گزرگاہ بحال
گزرگاہ اس وقت دوبارہ کھولی گئی جب دونوں ملکوں کے سرحدی حکام نے ثالثوں کے ذریعے سرحد کے قریب ہر قسم کی تعمیر روکنے پر اتفاق کیا۔
ادھر لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ افغان سرحدی چوکیوں سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا، جس کے جواب میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے متعدد افغان سرحدی چوکیوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق افغان طالبان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے، اور پاکستانی سرحدی علاقوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
ذرائع کے مطابق پیر کو بھی پاکستانی فورسز نے افغان طالبان کی چوکیوں پر توپ خانے اور بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے، اور انٹیلی جنس رپورٹس کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں کئی افغان جنگجو ہلاک ہوئے۔ تاہم ہلاکتوں یا نقصان کے بارے میں اب تک کوئی آزاد اور مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں، اور افغان طالبان کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری ردعمل نہیں آیا۔
پس منظر
یہ تازہ جھڑپیں 27 اکتوبر کی رات انگور اڈہ بازار اور شہری گھروں پر گولہ باری کے چند روز بعد ہوئی ہیں، جس میں ایک شہری جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے تھے؛ افغان وزارتِ دفاع نے اس الزام کی تردید کی تھی۔ پاکستان کی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری رہی تو افغان طالبان اس کی بھاری قیمت برداشت نہیں کر سکیں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی افغان سرزمین سے حملوں پر پاکستان کے خدشات سے اتفاق کرتے ہوئے کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
