پاکستان اور ایران سے افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے بدھ 4 نومبر کو ایک بیان میں بتایا کہ ایک روز پہلے 141 خاندانوں پر مشتمل 642 افراد کو جبری طور پر افغانستان واپس بھیجا گیا۔
بیان کے مطابق سب سے زیادہ، یعنی 53 خاندانوں کے 287 افراد، ننگرہار میں طورخم کی سرحدی گزرگاہ سے واپس آئے، جبکہ قندھار کی اسپن بولدک گزرگاہ سے 15 خاندانوں کے 73 افراد افغانستان پہنچے۔ ایران سے متصل سرحد پر ہرات کی اسلام قلعہ گزرگاہ سے 19 خاندانوں کے 58 افراد اور نیمروز میں پلِ ابریشم کی گزرگاہ سے 54 خاندانوں کے 224 افراد واپس آئے۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی روز پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کی پاکستان میں نئی نمائندہ نوریکو تاکاگی سے ملاقات کی۔ محمد صادق کے مطابق ملاقات میں افغانستان کی انسانی صورتحال، زمینی سطح کے بڑے چیلنجز اور بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے کی اہمیت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
پاکستان اور ایران میں برسوں سے مقیم لاکھوں افغان شہری حالیہ عرصے میں وطن واپس جا چکے ہیں یا بھیجے گئے ہیں، جبکہ امدادی ادارے خبردار کرتے رہے ہیں کہ معاشی مشکلات سے دوچار افغانستان میں اتنی بڑی تعداد میں واپس آنے والوں کو بسانا ایک بڑا چیلنج ہے۔
