ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں دو افغان شہریوں کو پھانسی دے دی ہے۔ تنظیم کے مطابق 43 سالہ مبارک محمدی اور 49 سالہ قاسم ملا امینی کو 21 اکتوبر کو اصفہان کی مرکزی جیل، جسے دستگرد جیل بھی کہا جاتا ہے، میں پھانسی دی گئی۔ ایران کے سرکاری میڈیا یا عدالتی حکام نے ان پھانسیوں کی تصدیق نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق دونوں افراد رشتہ دار تھے اور ان کا تعلق شمالی افغان صوبے جوزجان کے دارالحکومت شبرغان سے تھا، جبکہ وہ ایرانی شہر مشہد میں مقیم تھے۔ انہیں تقریباً دو سال پہلے اصفہان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا اور شہر کی انقلابی عدالت نے ایک مشترکہ مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی تھی۔ مبارک محمدی چار اور قاسم امینی تین بچوں کے والد تھے۔
ایران دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں شامل ہے۔ ایک اور تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں اب تک کم از کم 691 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے، جن میں 23 خواتین اور 25 افغان شہری شامل ہیں۔
ایران میں لاکھوں افغان مہاجرین اور تارکینِ وطن مقیم ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں غیر ملکیوں کے مقدمات میں منصفانہ سماعت، وکیل تک رسائی اور شفافیت کی کمی پر تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں اور ایران سے سزائے موت روکنے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔
