مواد پر جائیں

لاہور: آگ کے مقامات میں 15 فیصد اضافہ

سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق 27 اکتوبر سے 2 نومبر کے دوران لاہور کے 300 کلومیٹر کے دائرے میں 3,712 آگ کے مقامات ریکارڈ ہوئے، جن میں سے 2,753 پاکستان میں تھے، جو گزشتہ سال سے 15 فیصد زیادہ ہیں۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

لاہور کی فضا ایک بار پھر دھوئیں سے بوجھل ہے اور سیٹلائٹ ڈیٹا بتا رہا ہے کہ اس بار آگ کے زیادہ مقامات سرحد کے اِس پار ہیں۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (پاکی) کے سیٹلائٹ تجزیے کے مطابق 27 اکتوبر سے 2 نومبر تک لاہور کے 300 کلومیٹر کے دائرے میں مجموعی طور پر 3,712 آگ کے مقامات (فائر ہاٹ اسپاٹس) ریکارڈ ہوئے، جن میں سے 2,753 پاکستان اور 957 بھارت میں تھے۔

پاکستان میں یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے 2,390 کے مقابلے میں 15 فیصد اور 2018 سے 2025 تک کی آٹھ سالہ اوسط 1,824 کے مقابلے میں 51 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے برعکس بھارت میں ریکارڈ ہونے والے مقامات اس کی آٹھ سالہ اوسط 10,448 سے کہیں کم رہے۔ ناسا کے فائر انفارمیشن سسٹم پر مبنی اس تجزیے کے مطابق دونوں ملکوں میں مجموعی تعداد 2018 میں 19,674 اور 2020 میں 21,157 تھی، جو 2025 میں 3,667 تک گر گئی تھی۔

تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اکتوبر کے دوسرے نصف میں آگ کے مقامات بڑھنے کے ساتھ لاہور میں باریک ذرات (پی ایم 2.5) کی سطح بھی بڑھی، اور یکم اور 2 نومبر کے قریب روزانہ اوسط تقریباً 220 سے بڑھ کر 285 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی۔ تاہم رپورٹ کے مطابق اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آلودگی کی واحد وجہ فصلوں کی باقیات جلانا ہے۔

پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کہتی رہی ہیں کہ امرتسر اور اٹاری سے آنے والی ہوائیں لاہور کی آلودگی میں حصہ ڈالتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق ہوا کے رخ کی ماڈلنگ صرف ہوا کی ممکنہ نقل و حرکت دکھاتی ہے، آلودگی کا ماخذ ثابت نہیں کرتی۔ ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ سیٹلائٹ پر نظر آنے والا ہر مقام لازماً فصل جلانے کا واقعہ نہیں ہوتا، اور لاہور کی اسموگ کے اصل اسباب جاننے کے لیے سیٹلائٹ، زمینی نگرانی اور موسمیاتی ڈیٹا کا مشترکہ جائزہ ضروری ہے۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-11-05-lahore-smog-fire-hotspots-up-15-percent?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

پاکستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں