مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ
پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے ابھرنے کی تاریخ دو الگ خانوں میں بند نہیں کی جا سکتی۔ سرحد کے دونوں طرف جنگجو تنظیمیں، قبائلی روابط، مذہبی مدارس اور ریاستی فیصلے ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتے رہے ہیں۔ سینئر صحافی اور کتاب طالبان کے مصنف احمد رشید نے کئی برس پہلے پاکستان میں طالبانائزیشن کے بڑھتے رجحان پر جو تنبیہ کی تھی، وہ بعد کے تنازعات کو سمجھنے میں اب بھی اہم حوالہ ہے۔
ایک پرانے خطاب کی رپورٹ میں احمد رشید نے پاکستان میں طالبانائزیشن کے خطرے کو بڑھتا ہوا قرار دیا تھا۔ اس وقت انہوں نے افغانستان سے 2001 کے بعد پاکستان آنے والے جنگجوؤں، قبائلی علاقوں کے اندر شدت پسندی کے پھیلاؤ اور مقامی عسکری تنظیموں کی تنظیم نو کو ایک مسلسل سلسلہ قرار دیا۔ یہ تاریخی موقف ہے؛ اسے 2026 کی نئی پریس کانفرنس سمجھنا غلط ہوگا۔
ان کی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایک ہی فکری روایت سے جڑے گروہوں کو مستقل طور پر اچھے اور برے کے خانوں میں تقسیم کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے اندر سیاسی و عسکری فیصلوں کے لیے اہم سوال یہی رہا کہ افغانستان کی کسی قوت کے ساتھ تعاون داخلی سلامتی پر کس طرح اثر ڈالے گا۔
1990 کی دہائی میں افغان طالبان نے ایک مسلح تحریک کے طور پر ابھر کر اقتدار حاصل کیا۔ 2001 کے بعد ان کی قیادت اور ارکان مختلف علاقوں میں منتشر ہوئے۔ کئی محققین کے مطابق سرحدی علاقوں کی شورش نے پاکستان کی داخلی شدت پسندی کو بھی متاثر کیا۔ تاہم ہر پاکستانی مسلح گروہ کی تاریخ، قیادت اور مقاصد مختلف رہے؛ ان سب کو ایک ہی تنظیم سمجھنا درست نہیں۔
احمد رشید نے پاکستانی قبائلی علاقوں کے مقامی عمائدین پر حملوں، مسلسل عارضی معاہدوں اور کمزور شہری اداروں کی طرف بھی توجہ دلائی۔ جب کسی علاقے میں مقامی نمائندگی کمزور ہو اور لوگوں کو انصاف، تعلیم اور روزگار کی قابلِ اعتماد سہولت نہ ملے تو مسلح گروہوں کو اپنا اثر بڑھانے کے مواقع مل سکتے ہیں۔
شدت پسندی کو صرف مقامی غربت سے سمجھنا بھی کافی نہیں۔ اس میں نظریاتی تنظیم، جنگی مالیات، منظم اسلحہ، بیرونی تنازعات اور مخصوص عسکری سیاسی فیصلوں کا کردار بھی شامل ہوتا ہے۔ مضبوط انتظامی ادارے، مقامی شکایات کا منصفانہ حل اور مسلح تنظیموں کی مالی و عسکری رسد روکنا ایک مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
احمد رشید کی رپورٹ کردہ گفتگو میں امریکی فیصلوں کی خامیاں بھی موضوع تھیں۔ افغانستان میں حکومت سازی کو جنگی کامیابی کے تابع کرنا، بعض مقامی جنگجو سرداروں پر انحصار اور منشیات کی معیشت کو مؤثر طور پر نہ روک پانا ایسے مسائل تھے جنہوں نے طویل بحران کو پیچیدہ بنایا۔
پاکستان نے دہشت گردی میں ہزاروں شہری اور سکیورٹی اہلکار کھوئے ہیں۔ ان نقصانات کو تسلیم کیے بغیر ماضی کی پالیسیوں کا جائزہ ادھورا ہوگا۔ دوسری جانب افغانستان نے بھی کئی دہائیوں کی جنگ میں ناقابلِ تلافی انسانی، تعلیمی اور معاشی نقصان اٹھایا ہے۔
اس تاریخی مثال کو موجودہ تنازع پر من و عن لاگو کرنا احتیاط مانگتا ہے۔ آج طالبان افغانستان میں حکمران ہیں، پاکستان میں فوجی و شہری اداروں کی صورت پہلے سے مختلف ہے، اور خطے میں چین، روس، ایران اور وسطی ایشیا کا کردار بڑھا ہے۔ پرانے واقعات تاریخی پس منظر دیتے ہیں، ہر نئے الزام کا ثبوت نہیں۔
صحافتی طور پر بہتر سوال یہ ہے کہ ماضی کے فیصلوں سے کیا سبق سیکھا گیا: کیا ریاست دہشت گردی کو یکساں اصول کے تحت مسترد کرتی ہے؟ کیا متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو امن پالیسی میں آواز حاصل ہے؟ کیا پاکستان اور افغانستان اپنی زمین سے سرحد پار تشدد روکنے کے لیے مشترکہ قابلِ جانچ اقدامات کر رہے ہیں؟
احمد رشید کی پرانی تنبیہات کا آج بھی بنیادی پیغام یہی ہے کہ قلیل مدتی عسکری فائدے کے لیے مسلح نظریاتی گروہوں کو جگہ دینا طویل مدت میں خود ریاست اور اس کے ہمسایوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس نتیجے کو سیاسی نعرے کے بجائے مسلسل تاریخی تحقیق کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: احمد رشید کی اصل تحقیق، تقریر یا شائع شدہ رپورٹ سے حاصل شدہ اہم تاریخی و تجزیاتی نکات پر شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی تحریر ہے، اصل متن کا مکمل یا لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں۔ جہاں مصنف کے بجائے کسی صحافی نے ان کا بیان رپورٹ کیا ہے وہاں اسے اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔
