مواد پر جائیں

افغانستان میں بیس سالہ جنگ کی ناکامی: بارنیٹ روبن کی تحقیق، امریکی فیصلے اور پاکستان کا کردار

بارنیٹ روبن کے 2025 کے تحقیقی مضمون کی روشنی میں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، بون سیاسی عمل، امریکی ترجیحات اور علاقائی پیچیدگیوں پر آزاد اردو تجزیہ۔

تحریر Margalla News Research Desk

شائع شدہ

تازہ کاری

4 منٹ مطالعہ

مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ

افغانستان میں بیس سالہ جنگ کو عموماً فوجی فتح، انخلا اور طالبان کی واپسی کے چند بڑے واقعات میں سمیٹ دیا جاتا ہے۔ لیکن 2001 سے 2021 کے درمیان بننے والی ریاست، افغان معاشرے کی توقعات اور بیرونی قوتوں کے مقاصد کی کہانی کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ افغانستان کے ماہر بارنیٹ آر روبن نے مارچ 2025 کے مضمون میں استدلال کیا کہ جنگ کے آغاز ہی سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو سیاسی مفاہمت اور ریاستی تعمیر پر فوقیت دی گئی۔

روبن کئی برس افغانستان سے متعلق سفارتی اور تحقیقی عمل سے منسلک رہے۔ ان کے مطابق 2001 کے بون عمل میں افغان معاشرے کے تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرنے کا ہدف موجود تھا، مگر طالبان کی سیاسی شمولیت کے امکانات کو بہت جلد محدود کر دیا گیا۔ ان کے نزدیک اس ابتدائی فیصلے نے بعد کی مسلح بغاوت کے لیے جگہ پیدا کرنے میں کردار ادا کیا۔

یہاں ایک ضروری سوال ہے: کیا طالبان کی شمولیت واقعی دیرپا امن پیدا کرتی؟ اس کا قطعی جواب تاریخ نہیں دے سکتی۔ طالبان کے سابقہ طرزِ حکومت، مسلح سرگرمیوں اور خواتین و شہری حقوق پر پابندیوں سے متعلق سنگین خدشات بھی موجود تھے۔ تاہم ممکنہ مذاکرات کے مواقع کو پہلے ہی مکمل طور پر خارج کرنا بھی ایک اہم سیاسی انتخاب تھا۔

روبن کے تجزیے کا ایک اور مرکز امریکی اہداف کا بدلنا ہے۔ واشنگٹن ایک طرف دہشت گردی کے مراکز ختم کرنا چاہتا تھا، دوسری طرف افغانستان میں حکمرانی کے ایسے ادارے بنانے کی کوشش بھی جاری تھی جنہیں افغان آبادی کی وسیع حمایت مل سکے۔ جب دو اہداف کے لیے ایک دوسرے سے متصادم طریقے استعمال کیے جائیں تو کامیابی کی واضح تعریف مشکل ہو جاتی ہے۔

پاکستان اس جنگ میں ایک اہم علاقائی ملک رہا۔ اس نے امریکا کی فوجی رسد اور انسداد دہشت گردی میں تعاون کیا، مگر افغان طالبان کے پاکستان میں موجود نیٹ ورکس کے بارے میں امریکی اور افغان حکام نے طویل عرصے تک شکایات کیں۔ اسلام آباد نے مختلف الزامات مسترد کیے اور اپنی داخلی سلامتی و علاقائی مفادات کے تحفظ کو اہم بتایا۔

روبن کی تحریر میں پاکستان واحد فیصلہ کن عامل نہیں۔ وہ امریکی انتظامیہ کی ترجیحات، افغان سیاسی قیادت کی مشکلات، اتحادی افواج کے طریقۂ کار اور بین الاقوامی مدد کے ڈھانچے پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ اس سے افغانستان کی جنگ کو محض کسی ایک پڑوسی کے کردار سے سمجھنے کی محدودیت سامنے آتی ہے۔

جنگ کے انسانی اخراجات کو صرف فوجی نقصانات میں نہیں ناپا جا سکتا۔ لاکھوں خاندان نقل مکانی کے تجربے سے گزرے، دیہی معیشت متاثر ہوئی، اور تعلیم، صحت اور شہروں میں قائم ہونے والے کئی ادارے مسلسل غیر یقینی میں رہے۔ 2021 میں اچانک انخلا نے اس ادارہ جاتی کمزوری کو غیرمعمولی تیزی سے سامنے لا دیا۔

طالبان کی دوبارہ حکومت بننے کے بعد بھی افغان عوام کے بنیادی حقوق کا سوال ختم نہیں ہوا۔ بالخصوص خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیاں افغانستان کی معاشی صلاحیت اور شہری آزادیوں کو متاثر کرتی ہیں۔ بیرونی مداخلت کی ناکامی کا مطلب نئی حکومت کی ہر پالیسی کی حمایت نہیں ہو سکتا۔

پاکستان، ایران، بھارت، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے افغانستان کے ساتھ تعلقات سلامتی اور تجارت دونوں کی ضرورت ہیں۔ لیکن اگر ہر ریاست کابل کو اپنے علاقائی مقابلوں کے ایک وسیلے کے طور پر دیکھے تو افغان شہریوں کی سیاسی اور معاشی ترجیحات ایک بار پھر پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔

روبن کے مضمون سے نکلنے والا وسیع سبق یہ ہے کہ عسکری دباؤ کے باوجود مستقل سیاسی تصفیہ ضروری ہے۔ ایسا تصفیہ جس میں مقامی نمائندگی، ریاستی اداروں پر اعتماد، شہری حقوق اور ہمسایوں کے جائز سلامتی خدشات کے لیے الگ اور واضح انتظام ہو۔

افغانستان کے بارے میں نئی پالیسی بناتے وقت ماضی کی یہ تحقیق اہم ہے، مگر اسے موجودہ واقعات کا خودکار جواب نہیں بنانا چاہیے۔ ایک بہتر راستہ وہ ہوگا جس میں افغان شہری کی آواز، خطے کے حقیقی معاشی روابط اور مسلح تشدد سے حفاظت ایک ہی میز پر زیر بحث آئیں۔

ماخذ اور اظہارِ تشکر: بارنیٹ روبن کی اصل تحقیق، تقریر یا شائع شدہ رپورٹ سے حاصل شدہ اہم تاریخی و تجزیاتی نکات پر شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی تحریر ہے، اصل متن کا مکمل یا لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں۔ جہاں مصنف کے بجائے کسی صحافی نے ان کا بیان رپورٹ کیا ہے وہاں اسے اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/barnett-rubin-afghanistan-us-war-diplomacy-failure-pakistan-2026?lang=ur