مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ
پاکستان کی سلامتی کے لیے تحریک طالبان پاکستان ایک طویل عرصے سے بڑا چیلنج رہی ہے۔ فوجی کارروائیاں، گرفتاریاں، سرحدی نگرانی اور مختلف مذاکراتی کوششیں اس مسئلے کو مستقل طور پر ختم نہیں کر سکیں۔ سائنس دان اور کالم نگار ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے جنوری 2023 کے ایک کالم میں یہی سوال اٹھایا تھا کہ اتنی وسیع عسکری صلاحیت رکھنے والی ریاست ایک نسبتاً چھوٹی مسلح تنظیم کے مقابل فیصلہ کن کامیابی کیوں حاصل نہیں کر پاتی۔
ہودبھائی کے مطابق فوجی طاقت اور پیچیدہ شورش کا مقابلہ ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں۔ لڑنے والے مسلح گروہوں کے پاس نظریاتی تربیت، سرحدی آمدورفت، مقامی روابط اور غیرمرکزی تنظیمی ڈھانچے جیسی خصوصیات ہوسکتی ہیں، جنہیں صرف روایتی فوجی برتری سے ختم کرنا مشکل رہتا ہے۔
ان کے کالم میں طالبان کی افغانستان میں واپسی سے متعلق پاکستانی پالیسی کو ایک بڑی حکمت عملی کی غلطی قرار دیا گیا۔ ان کا خیال ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے نظریاتی و تاریخی تعلقات کے باوجود ان کے درمیان مستقل اور محفوظ امتیاز قائم کرنے کی امید حقیقت پسندانہ نہ تھی۔
لیکن ان تنظیموں کے درمیان فرق موجود ہے۔ افغان طالبان افغانستان کی حکمراں تحریک ہیں، جبکہ ٹی ٹی پی پاکستانی ریاست کے خلاف سرگرم تنظیم ہے۔ یہ کہنا کہ دونوں ایک ہی مرکزی قیادت سے ہر کارروائی چلاتے ہیں، ثبوت کے بغیر درست نہیں۔ ان کے روابط اور باہمی تعاون کی نوعیت مخصوص مقامات، ادوار اور افراد کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔
پاکستانی عوام نے ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بے شمار جانیں کھوئی ہیں۔ آرمی پبلک اسکول پر حملہ اور دوسرے بڑے واقعات اس دہشت گردی کی سنگینی یاد دلاتے ہیں۔ ریاست کے لیے شہریوں کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے، لیکن صرف فوری جوابی کارروائی سے دائمی تحفظ کا نظام نہیں بنتا۔
انسداد دہشت گردی کی پالیسی کے تین اہم پہلو ہیں: مسلح نیٹ ورکس کی کارروائیوں کو روکنا، متاثرہ علاقوں میں منصفانہ انتظام قائم کرنا، اور شدت پسند تنظیموں کی نئی بھرتیوں کے سماجی و سیاسی محرکات پر توجہ دینا۔ اگر ان میں سے کوئی پہلو مسلسل نظرانداز ہو تو عسکری کامیابی عارضی رہ سکتی ہے۔
ہودبھائی کی تنقید پاکستان کی اندرونی سیاسی بحث کے لیے بھی اہم ہے۔ کسی مسلح گروہ کے خلاف کارروائی کرتے وقت شہری آبادی کی شکایات کو سننا، حراست اور تفتیش میں قانون کے تقاضے پورے کرنا اور متاثرین کے لیے قابلِ اعتماد عدالتی نظام بنانا ریاستی قانونی حیثیت کو مضبوط کرتا ہے۔
افغانستان کے ساتھ تعلق میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ اگر اسلام آباد افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں کا الزام لگاتا ہے تو اسے اپنی بات ایسے شواہد کے ساتھ پیش کرنا چاہیے جن کی مخصوص نوعیت پر سفارتی یا مشترکہ حفاظتی سطح پر بات ہو سکے۔ کابل پر بھی لازم ہے کہ اپنی سرزمین کو دوسرے ملکوں پر مسلح حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔
سرحد پار حملوں کے جواب میں فضائی طاقت استعمال ہونے پر شہریوں کے تحفظ اور خودمختاری کے سوال بھی پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی مؤثر انسداد دہشت گردی حکمت عملی ایسی نہیں ہو سکتی جو ایک خطرہ کم کرنے کی کوشش میں دوسرے ملک کی آبادی کے اندر مزید نفرت اور عدم اعتماد پیدا کرے۔
ہودبھائی کا 2023 کا کالم 2026 کی صورت حال کے تمام پہلوؤں کا حتمی تجزیہ نہیں؛ اس کے اعدادوشمار اور اس وقت کے واقعات تاریخی ہیں۔ مگر ان کا مرکزی سوال اب بھی اہم ہے کہ مسلسل طاقت کے باوجود دہشت گردی دوبارہ کیوں ابھر سکتی ہے، اور کیا ریاست پالیسی کی غلطیوں پر کھلی نظرثانی کے لیے تیار ہے۔
اس مسئلے کا جواب کسی ایک جملے یا ایک فوجی کارروائی میں نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قابلِ اعتماد سفارت کاری، مسلح تنظیموں کے خلاف مخصوص اقدامات اور دونوں جانب عوام کے تحفظ کا نظام وہ بنیادیں ہیں جن کے بغیر پائیدار امن مشکل رہے گا۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی اصل تحقیق، تقریر یا شائع شدہ رپورٹ سے حاصل شدہ اہم تاریخی و تجزیاتی نکات پر شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کی اپنی تحریر ہے، اصل متن کا مکمل یا لفظ بہ لفظ ترجمہ نہیں۔ جہاں مصنف کے بجائے کسی صحافی نے ان کا بیان رپورٹ کیا ہے وہاں اسے اسی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔
