مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ
پاکستان میں انتخابات ہوتے ہیں، اسمبلیاں قائم ہوتی ہیں اور سیاسی جماعتیں حکومتیں بناتی اور بدلتی ہیں۔ اس کے باوجود سوال بار بار اٹھتا ہے کہ قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور بعض بڑے سیاسی فیصلوں پر آخری اختیار کس ادارے کے پاس ہوتا ہے۔ سیاسیات کے محقق ڈاکٹر عقیل شاہ نے اپریل 2026 میں شائع ہونے والے تحقیقی مقالے میں اسی تضاد کو فوجی سرپرستی کے تصور سے سمجھنے کی کوشش کی۔
عقیل شاہ کے مطابق ایسی سیاسی ساخت میں جمہوری طریقہ کار مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ ووٹر اپنا حق استعمال کرتے ہیں، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں اور پارلیمنٹ میں بحث بھی ہوتی ہے۔ لیکن کچھ بنیادی معاملات میں فوج کا اثر ایسا رہتا ہے کہ منتخب قیادت اپنی مرضی سے پالیسی تبدیل کرنے میں محدود محسوس کرتی ہے۔
ان کے مقالے کی اہمیت یہ ہے کہ وہ وقتی مداخلت اور مستقل ادارہ جاتی اثر میں فرق کرتے ہیں۔ اگر کوئی طاقتور ادارہ محض مخصوص سیاسی بحران میں مداخلت کرتا ہے تو اس کی نوعیت ایک ہوتی ہے؛ مگر اگر آئینی، انتظامی اور عدالتی ترتیبات کے ذریعے اس کا کردار مستقل بنایا جائے تو مسئلہ شخصیات سے بڑھ کر نظام کی ساخت کا ہو جاتا ہے۔
محقق نے 2018 کے بعد کی پاکستانی سیاست، اپریل 2022 میں عمران خان کی برطرفی کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی، 2024 کے انتخابات پر اٹھائے گئے اعتراضات اور عدالتوں سے متعلق آئینی تبدیلیوں کو ایک مشترکہ تاریخی سلسلے کے طور پر دیکھا۔ یہ ان کی تحقیقی تعبیر ہے۔ ہر انفرادی انتخابی یا عدالتی تنازع کے لیے اس کی مخصوص دستاویزات اور قانونی فیصلے الگ دیکھنا ضروری ہیں۔
عقیل شاہ کے نزدیک عوامی مقبولیت یا سیاسی مزاحمت ادارہ جاتی تسلط کو ہمیشہ کم نہیں کرتی۔ کبھی ایسا دباؤ طاقتور اداروں کو اپنے کردار کو مزید منظم یا باضابطہ کرنے کی طرف بھی لے جاسکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی مدد سے وہ عمران خان کے بعد کے سیاسی بحران اور ریاستی ردعمل کو پڑھتے ہیں۔
یہاں جمہوری پیمانے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ کسی ملک میں محض عام انتخابات کا منعقد ہونا کافی نہیں؛ مخالف جماعتوں کے لیے مساوی مواقع، ذرائع ابلاغ کی آزادی، انتخابی نتائج کی قانونی جانچ، عدالتوں کی غیر جانبداری اور شہری اداروں کا عسکری اختیار پر قابلِ عمل کنٹرول بھی ضروری ہے۔
پاکستان کے سرکاری اور حکومتی حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی کے ادارے آئینی دائرے میں رہ کر ملکی استحکام میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی، سرحدی تنازعات اور سیاسی عدم استحکام غیرمعمولی تعاون کی ضرورت پیدا کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود تنقیدی سوال یہی رہتا ہے کہ ایسے تعاون کی حد اور مدت کون متعین کرے گا۔
سیاسی جماعتوں کی اپنی ذمہ داری کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ جب جماعتیں قلیل مدتی فائدے کے لیے غیرمنتخب اداروں سے حمایت چاہتی ہیں یا سیاسی مخالفین کے خلاف یکساں قوانین کا اطلاق نہیں کرتیں تو جمہوری عمل مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ تمام ذمہ داری کسی ایک شخصیت پر رکھ دینا ساختی مسئلے کی پیچیدگی کم کر دیتا ہے۔
اس طرح کے تحقیقی مقالے کی ایک حد بھی ہے: ادارہ جاتی طاقت کے حقیقی مرکز کو براہِ راست ناپنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے قانونی اصلاحات، انتخابی تنازعات، سرکاری بیانات، پارلیمانی اختیارات اور حقیقی پالیسی فیصلوں کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔
اصلاح کی ممکنہ سمت پارلیمانی نگرانی، سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت، آزاد انتخابی ادارے، آئین کی بالادستی اور دفاعی و خارجہ پالیسی پر منتخب نمائندوں کی باقاعدہ جواب دہی ہو سکتی ہے۔ ایسے اقدامات کا مقصد سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ اہلیت کم کرنا نہیں بلکہ اختیارات کی حدود شفاف بنانا ہے۔
عقیل شاہ کے مقالے کو سمجھنے کا بہترین طریقہ اسے کسی جماعت کے حق یا خلاف فیصلہ نہ بنانا ہے۔ یہ تحقیق پوچھتی ہے کہ فوجی اور سول اختیار کے درمیان لکیر کتنی واضح ہے، اور کیا شہری ووٹ سے بنیادی سیاسی سمت تبدیل ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے جمہوری مستقبل کی بحث اسی بنیادی سوال سے جڑی ہے۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: ڈاکٹر عقیل شاہ کی تحقیق، تحریر یا گفتگو کی رہنمائی اور متعلقہ اصل ناشر کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا خود مرتب کردہ اصل اردو تجزیہ ہے، اصل انگریزی مضمون کا نقل شدہ متن یا مکمل ترجمہ نہیں۔ تمام منسوب آرا مصنف/ماہر کی ہیں، جبکہ آزادانہ نتیجے الگ واضح کیے گئے ہیں۔
