مواد پر جائیں

کیا پاکستان میں سول ملٹری شراکت داری واقعی موجود ہے؟ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی تنقید کا تفصیلی تجزیہ

ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے پاکستانی سیاست کے موجودہ نظام، شہری آزادیوں اور ایمان مزاری مقدمے کو ریاستی طاقت کے زاویے سے پرکھا۔ اس خصوصی جائزے میں ان کے دلائل، جمہوری جواب دہی اور متبادل مؤقف شامل ہیں۔

تحریر Margalla News Research Desk

شائع شدہ

تازہ کاری

4 منٹ مطالعہ

مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ

پاکستان کے سیاسی نظام کے لیے برسوں سے ایک اصطلاح استعمال ہوتی رہی ہے: ہائبرڈ نظام، یعنی بظاہر منتخب حکومت مگر قومی سلامتی اور فیصلہ سازی کے اہم حصوں میں عسکری اداروں کا اثر۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے 28 جنوری 2026 کے کالم میں سوال اٹھایا کہ کیا موجودہ حالات میں اسے واقعی دو اداروں کی شراکت داری کہنا درست ہے یا طاقت کا توازن ایک طرف منتقل ہوچکا ہے۔

عائشہ صدیقہ پاکستانی فوج کے معاشی و سیاسی کردار پر طویل عرصے سے تحقیق کرتی آئی ہیں۔ ان کے نزدیک ریاستی طاقت کو صرف مارشل لا یا فوجی حکومت کی شکل میں دیکھنا ناکافی ہے۔ بعض اوقات ادارہ جاتی دباؤ، انتخابی عمل، عدالتوں سے تعلقات، میڈیا کی رسائی اور پالیسی سازی میں اثرورسوخ کے ذریعے بھی طاقت کا اصل مرکز متعین ہوتا ہے۔

ان کے تازہ کالم کا فوری محرک انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف قانونی کارروائی اور سزا تھی۔ صدیقہ نے اس واقعے کو اظہارِ رائے اور ریاستی طاقت کے تعلق کا ایک نمونہ قرار دیا۔ مقدمے میں عدالت کے فیصلے، قانونی دفعات، ممکنہ اپیلیں اور حکومت کی دلیل الگ قانونی مسائل ہیں؛ ان کی موجودگی کے باوجود عدالتی عمل کی شفافیت اور سیاسی آزادی کے سوال پر تحقیق ممکن ہے۔

مصنفہ کا بنیادی اعتراض اس لفظ پر ہے جو سیاسی اور عسکری قیادت کے تعلقات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ شراکت داری کا مفہوم عموماً یہ ہے کہ دونوں فریق فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات رکھتے ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب منتخب عہدیداروں کی آزادی محدود ہو، مخالف آوازوں پر دباؤ زیادہ ہو اور طاقتور ادارے احتساب سے نسبتاً محفوظ رہیں تو لفظ شراکت داری زمینی حقیقت چھپا سکتا ہے۔

تاہم کسی بھی ریاستی نظام کی درجہ بندی کا فیصلہ محض ایک مقدمے سے نہیں ہو سکتا۔ انتخابات کی آزادی، پارلیمانی قانون سازی، عدالتی فیصلوں کا تسلسل، فوجی بجٹ کی نگرانی، صوبائی خودمختاری اور شہریوں کے قانونی تحفظ جیسے کئی پیمانے درکار ہیں۔ عائشہ صدیقہ کی تحریر ایک سیاسی نظریہ پیش کرتی ہے جسے مختلف تجرباتی شواہد سے جانچا جانا چاہیے۔

پاکستانی حکام عام طور پر اس مؤقف پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی اور آئینی نظم کے تحفظ کے لیے موجودہ انتظامات ضروری ہیں، جبکہ منتخب حکومتیں اپنی قانونی حیثیت پر اصرار کرتی ہیں۔ ان دعووں کا تنقیدی جائزہ لینا اداروں کی تضحیک نہیں؛ یہ جمہوری جواب دہی کے تصور کی بنیاد ہے۔

فوج کے سیاسی اور معاشی کردار پر سوال اٹھانے کا مطلب عام فوجیوں یا دہشت گردی میں جان گنوانے والے اہلکاروں کی قربانیوں سے انکار نہیں۔ ریاستی اداروں کا پیشہ ورانہ احترام اور ان کے اختیارات کی آئینی نگرانی بیک وقت ممکن ہیں۔ اصل بحث یہ ہے کہ شہریوں کو کیسے معلوم ہو کہ طاقت کے استعمال کا فیصلہ کس نے کیا اور اس کی جواب دہی کہاں ہوگی۔

اظہارِ رائے کی آزادی کے معاملے میں ایک پیچیدگی یہ ہے کہ آن لائن جھوٹی اطلاعات، حقیقی اشتعال انگیزی اور پرامن تنقید کو اکثر ایک ہی دائرے میں رکھ دیا جاتا ہے۔ قانون کی عملداری کے لیے ضروری ہے کہ جرم کی تعریف محدود، واضح اور یکساں ہو؛ اور صحافی، وکیل یا مخالف سیاست دان محض اختلاف کی بنیاد پر سزا کا خوف محسوس نہ کریں۔

پاکستان کی تاریخ اس مباحثے کو خاص وزن دیتی ہے۔ منتخب حکومتوں کی تبدیلیاں، فوجی مداخلتوں کا تسلسل اور آئینی اداروں کی کشمکش عوام کے سیاسی اعتماد پر اثرانداز ہوئی ہے۔ ایسے ماحول میں معاشی استحکام بھی صرف اعدادوشمار سے قائم نہیں ہوتا؛ سرمایہ کار اور شہری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فیصلے پیش گوئی کے قابل اور قانون کے تابع رہیں گے۔

حل کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کو ہر مسئلے کا جواب سمجھنا نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کی حقیقی نگرانی، آزاد عدلیہ، قانون کے مساوی اطلاق، شفاف دفاعی و معاشی پالیسی اور بے خوف صحافت کے لیے مستقل ادارہ جاتی ضمانتیں قائم کرنا ہے۔

عائشہ صدیقہ کی تحریر سخت ہے اور اس کے بعض نتائج پر اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس کا بنیادی سوال برقرار رہتا ہے: پاکستان میں شہری ووٹ، عدالت اور منتخب نمائندوں کو فیصلہ سازی میں کتنی مؤثر آزادی حاصل ہے؟ اسی سوال کا شواہد پر مبنی جواب سیاسی بحث کو زیادہ واضح بنا سکتا ہے۔

ماخذ اور اظہارِ تشکر: ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی تحقیق، تحریر یا گفتگو کی رہنمائی اور متعلقہ اصل ناشر کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا خود مرتب کردہ اصل اردو تجزیہ ہے، اصل انگریزی مضمون کا نقل شدہ متن یا مکمل ترجمہ نہیں۔ تمام منسوب آرا مصنف/ماہر کی ہیں، جبکہ آزادانہ نتیجے الگ واضح کیے گئے ہیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/ayesha-siddiqa-pakistan-civil-military-democracy-detailed-review-2026?lang=ur