مواد پر جائیں

افغان طالبان اور پاکستان کا بدلتا تعلق: کرسٹین فیئر کے دلائل، ٹی ٹی پی اور علاقائی سلامتی

جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی محقق کرسٹین فیئر نے مارچ 2026 کے انٹرویو میں پاکستانی افغان طالبان تعلقات، ٹی ٹی پی اور سرحدی تجارت کے اثرات پر بات کی؛ یہاں ان کا تفصیلی تجزیاتی جائزہ ہے۔

تحریر Margalla News Research Desk

شائع شدہ

تازہ کاری

4 منٹ مطالعہ

مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ

1990 کی دہائی میں پاکستان اور افغان طالبان کے تعلقات کو اکثر سیاسی قربت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اگست 2021 میں طالبان کی کابل واپسی پر بھی پاکستان میں بعض حلقوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی سرحد کے معاملات آسان ہو جائیں گے۔ لیکن 2026 تک صورت حال مختلف ہوگئی۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی محقق کرسٹین فیئر نے مارچ 2026 میں شائع ہونے والے ایک طویل انٹرویو میں اسی تاریخی تضاد کی تشریح کی۔

کرسٹین فیئر کی تحقیق کا مرکزی موضوع جنوبی ایشیا میں فوجی و سیاسی حکمت عملی ہے۔ وہ ماضی میں افغان طالبان کے لیے پاکستان کی معاونت کا ذکر کرتی ہیں، لیکن ایک اہم امتیاز بھی بیان کرتی ہیں: ان کے مطابق طالبان کی ابتدا اور ان کی بعد کی سیاسی و فوجی تقویت کو ایک ہی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔

فیئر کے نزدیک پاکستان کے لیے افغان طالبان کی کامیابی ایک مشکل سوال بن گئی۔ تحریک طالبان پاکستان الگ تنظیم ہے، مگر دونوں گروہوں کے نظریاتی، تاریخی اور بعض شخصی روابط رہے ہیں۔ پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ کابل اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکے، جبکہ طالبان حکام ان پر عائد الزامات کو مسترد کرتے یا انہیں پاکستان کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان میں ٹی ٹی پی نے متعدد خونریز حملے کیے ہیں۔ ان حملوں کے متاثرین میں شہری، بچے، فوجی اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔ یہ سلامتی کا حقیقی مسئلہ ہے، جسے محض ماضی کی پاکستانی خارجہ پالیسی کا نتیجہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرتے وقت افغان شہریوں اور انفراسٹرکچر کے تحفظ کا تقاضا بھی برقرار رہتا ہے۔

فیئر نے اپنے انٹرویو میں رائے دی کہ افغان طالبان نہ تو آسانی سے ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین سے نکال سکتے ہیں اور نہ شاید اس کے لیے سیاسی طور پر تیار ہیں۔ یہ دعویٰ طالبان قیادت کی نیت اور صلاحیت کے بارے میں تجزیاتی رائے ہے؛ ہر مقامی نیٹ ورک کی سرگرمی اور فیصلہ سازی کی الگ ثبوتی جانچ ضروری ہے۔

تعلقات خراب ہونے کا معاشی اثر بھی ہے۔ طورخم اور چمن جیسے راستے بند ہونے سے ٹرانزٹ تجارت، روزگار، اشیائے ضرورت اور سرحدی خاندانوں کی آمد و رفت متاثر ہوتی ہے۔ فیئر نے افغانستان کی جانب سے ایران کی چابہار بندرگاہ اور دیگر متبادل راستوں میں دلچسپی کا حوالہ دیا۔ متبادل راستے افغانستان کا انحصار کم کرسکتے ہیں، مگر ان کے لیے سرمایہ کاری اور مسلسل سفارتی انتظامات درکار ہیں۔

فیئر کی سخت تنقید کو سمجھتے ہوئے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں عام شہریوں کے ایک بڑے حصے نے افغان مہاجرین کی دہائیوں میزبانی کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شدید نقصان برداشت کیا۔ ریاستی حکمت عملی کا احتساب اور معاشرے کے انسانی کردار کا اعتراف ایک ساتھ کیا جاسکتا ہے۔

تنازع میں ایک اضافی مسئلہ قابلِ تصدیق معلومات کی کمی ہے۔ سرحد پار حملوں کے بعد دونوں طرف کی حکومتیں اپنے ہلاک اور زخمی افراد، عسکری اہداف اور دشمن کی موجودگی سے متعلق مختلف دعوے کرتی ہیں۔ آزادانہ مشاہدہ، شہری نقصان کا قابلِ اعتبار ریکارڈ اور جنگ بندی پر نگرانی کے طریقے نہ ہوں تو ہر نیا واقعہ مزید الزام تراشی پیدا کرتا ہے۔

کرسٹین فیئر کی گفتگو سے ابھرنے والا بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اور افغانستان مشترکہ سلامتی تعاون کا ایسا ڈھانچہ بنا سکتے ہیں جس میں سیاسی اختلاف کے باوجود مسلح گروہوں سے متعلق قابلِ تصدیق معلومات کا تبادلہ ہو؟ اس کے لیے دونوں طرف سے ذمہ داریاں، سفارتی چینل اور شہری حقوق کے تحفظ کا واضح فریم ورک ضروری ہوگا۔

صرف فضائی حملے اور سرحد بندشیں بظاہر فوری دباؤ پیدا کرسکتی ہیں، لیکن ان کے دیرپا نتائج ہمیشہ مطلوبہ نہیں ہوتے۔ افغانستان کے اندر عوامی ناراضی سے طالبان کی قومی سیاسی حمایت بڑھ سکتی ہے، اور پاکستان میں مسلسل حملے حکومت پر مزید طاقت استعمال کرنے کا دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ اس چکر کو توڑنا عملی سفارت کاری اور شفاف سلامتی تعاون پر منحصر ہوگا۔

کرسٹین فیئر کا انٹرویو پاکستان کی علاقائی حکمت عملی کے لیے سخت سوالات سامنے لاتا ہے۔ تاہم ان کی آرا کو آخری فیصلہ سمجھنے کے بجائے تاریخی شواہد، پاکستان اور افغان حکام کے مؤقف اور آزاد تحقیقی اعدادوشمار کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔

ماخذ اور اظہارِ تشکر: ڈاکٹر کرسٹین فیئر کی تحقیق، تحریر یا گفتگو کی رہنمائی اور متعلقہ اصل ناشر کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا خود مرتب کردہ اصل اردو تجزیہ ہے، اصل انگریزی مضمون کا نقل شدہ متن یا مکمل ترجمہ نہیں۔ تمام منسوب آرا مصنف/ماہر کی ہیں، جبکہ آزادانہ نتیجے الگ واضح کیے گئے ہیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/christine-fair-pakistan-taliban-conflict-strategic-depth-2026?lang=ur