ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وفاقی حکومت نے سرکاری افسران کی دوہری شہریت کے معاملے پر گرفت مزید سخت کر دی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 21 اکتوبر کو جاری نوٹیفکیشن میں تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت افسران کی جانب سے غیر ملکی شہریت، غیر ملکی سفری دستاویزات اور زیر کفالت افراد کی شہریت سے متعلق جمع کرائے گئے حلف ناموں کی یکجا تفصیلات فراہم کریں۔
قواعد کیا کہتے ہیں؟
نوٹیفکیشن میں سول سرونٹس (ڈسکلوژر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنیلٹی) رولز 2026 کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے تحت ہر سرکاری ملازم کو گزٹ میں قواعد کی اشاعت کے 90 دن کے اندر اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی شہریت کے بارے میں حلف نامہ جمع کرانا تھا۔
قاعدہ 3(3) کے تحت افسر کو بتانا ہوتا ہے کہ آیا وہ کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھتا ہے، اس کے پاس غیر ملکی سفری دستاویزات ہیں یا اس کی شادی کسی غیر ملکی شہری سے ہوئی ہے۔ زیر کفالت افراد کی شہریت اور سفری دستاویزات کی تفصیل بھی دینا لازم ہے۔
غلط بیانی بدعنوانی شمار ہوگی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ قاعدہ 3(4) کے مطابق حلف نامہ جمع نہ کرانا یا غلط معلومات دینا سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت 'مس کنڈکٹ' تصور ہوگا، جس پر تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے۔
کن افسران پر لاگو؟
وزارتوں کو اپنے انتظامی کنٹرول میں موجود افسران کی تفصیلات دینی ہیں، تاہم پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ کے افسران اس فہرست سے باہر رکھے گئے ہیں۔ مقررہ فارمیٹ میں ہر افسر کا نام، عہدہ، گریڈ، حلف نامہ جمع کرانے کی تصدیق اور افسر و زیر کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویزات کی تفصیل شامل ہوگی۔
پس منظر
اخبار کے مطابق اسی ماہ کے آغاز میں حکومت نے فارن سٹیزن شپ رولز 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو ایک ہفتے میں اپنی اور زیر کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔ یہ ہدایت دوہری شہریت رکھنے والے افسران پر بھی لاگو ہوتی ہے۔
