سینیٹ میں جمعے کو ایندھن کی فراہمی پر خدشات کی گونج سنائی دی، جب پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے پوچھا کہ کیا دسمبر میں ملک میں پیٹرول دستیاب ہوگا۔ یہ سوال ایسے وقت اٹھا جب وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ایوان کو یقین دلا چکے تھے کہ فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں۔
وقفۂ سوالات کے دوران بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ ایک کروڑ سے زائد افراد حکومت کی ٹارگٹڈ فیول سبسڈی اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور رواں سال پیٹرولیم لیوی کی مد میں ایک ہزار 676 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق موٹر سائیکل، رکشہ اور لوڈر چلانے والوں اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ہدفی ریلیف دیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب گزشتہ ہفتے کہہ چکے ہیں کہ ملک کے پاس نومبر تک کے لیے کافی ذخائر موجود ہیں۔
شیری رحمان نے مطالبہ کیا کہ حکومت راشننگ یا کسی ہنگامی منصوبے کے بارے میں پارلیمنٹ کو آگاہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایل پی جی کی تقریباً 70 فیصد ضرورت درآمدات سے پوری کرتا ہے، اور گزشتہ سال پانچ کارگو آئے تھے جبکہ اس سال صرف دو کی توقع ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس نے خبردار کیا کہ اہم سمندری راستوں تک پھیلتی جنگ ملک کے توانائی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
اسی روز پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے صارفین سے اپیل کی کہ وہ گھبراہٹ میں ضرورت سے زیادہ ایندھن نہ خریدیں، کیونکہ پمپوں پر لمبی قطاریں بعض علاقوں میں مصنوعی قلت پیدا کر دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفائنریاں چل رہی ہیں اور سعودی عرب اور عمان سمیت خلیجی ممالک سے خام تیل اور مصنوعات درآمد ہو رہی ہیں، ’قیمت البتہ ایک الگ مسئلہ ہے۔‘ صنعتی اندازوں کے مطابق نومبر میں ڈیزل کی طلب تقریباً ساڑھے سات لاکھ ٹن اور پیٹرول کی تقریباً چھ لاکھ 30 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے۔
