خیبر پختونخوا کے سابق قبائلی علاقوں سمیت 12 اضلاع کے امور کے لیے حال ہی میں قائم کی گئی 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کے نائب سربراہ خان مرجان نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور حافظ گل بہادر گروپ سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دو روز قبل نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں خان مرجان نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں ہونے والے مذاکرات کے دوران پاکستان میں 90 دن تک کوئی عسکری حملہ نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ایک وفد کو بات چیت کے لیے افغانستان جانے کی اجازت دی جائے۔
ان کا یہ مؤقف وفاقی حکومت کی پالیسی سے مختلف ہے، جو ماضی کے مذاکرات پر تنقید کرتی رہی ہے اور حکام انہی مذاکرات کو عسکریت پسندی کی واپسی سے جوڑتے ہیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی ریاست مخالف عناصر سے بات چیت کا امکان مسترد کر چکے ہیں۔
90 دن بغیر حملوں کے گزرنے کے دعوے اور کونسل سے متعلق دیگر تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ حکومت کی جانب سے خان مرجان کے بیان پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
