جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے تصدیق شدہ کیسز 10 ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں۔ کانگو کی وزارت صحت کے منگل کو جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 10 ہزار 60 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور 4 ہزار 887 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یعنی متاثرین میں سے تقریباً نصف جان کی بازی ہار گئے۔
یہ کانگو کی تاریخ میں ایبولا کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی اور سب سے مہلک وبا ہے۔ دوسرے ملکوں میں کیسز سامنے آنے کے بعد مجموعی طور پر یہ دنیا کی دوسری بڑی ایبولا وبا بن گئی ہے، جس سے بڑی وبا صرف 2014 سے 2016 تک مغربی افریقہ میں پھیلی تھی، جس میں 28 ہزار 600 افراد متاثر اور 11 ہزار سے زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔
15 مئی کو اعلان کی گئی یہ وبا بنڈی بوگیو وائرس سے پھیلی ہے، جو ایبولا کی ایک نایاب قسم ہے اور اس کی کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ جمعے ویکسین کے پہلے کلینیکل ٹرائل کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ تقریباً 80 فیصد نئے کیسز ان افراد سے باہر سامنے آ رہے ہیں جن کی حکام نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ افریقہ سی ڈی سی کے مطابق وبا پر قابو پانے کے لیے کم از کم 95 فیصد کیسز معلوم رابطوں سے آنے چاہییں۔
دباؤ میں نظام صحت
کیسز اب آٹھ صوبوں کے 66 ہیلتھ زونز میں ریکارڈ ہو چکے ہیں، جبکہ ابتدائی دنوں میں یہ صرف تین زونز تک محدود تھے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ کئی علاج مراکز پر گنجائش سے زیادہ دباؤ ہے اور دور دراز علاقوں میں طبی سامان اور عملے کی کمی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے کم از کم نصف کبھی اسپتال تک نہیں پہنچ سکے۔ ہفتے کو صوبہ تشوپو کے علاقے بافواسینڈے میں مشتبہ مریض کو دیکھنے جانے والی ایک نرس کو قتل کر دیا گیا۔
وبا سرحدوں کے پار بھی پھیل چکی ہے۔ کینیا میں تصدیق شدہ کیسز نو ہو گئے ہیں جن میں سے دو جان لیوا ثابت ہوئے، جبکہ نائیجیریا متاثر ہونے والا چوتھا افریقی ملک بن گیا ہے۔ یوگنڈا نے کانگو سے واپس آنے والے شہریوں کے لیے اپنے خرچ پر 21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار دے دیا ہے۔
