اسرائیل میں منگل کو عام انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے اور یہ مقابلہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ 19 برس اقتدار میں رہنے والے نیتن یاہو کو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں، غزہ جنگ، ایران کے خلاف جنگ اور اسرائیل کی بڑھتی عالمی تنہائی کے پس منظر میں ووٹروں کا سامنا ہے۔
پولنگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے (پاکستانی وقت صبح 10 بجے) شروع ہوئی اور رات 10 بجے (پاکستانی وقت بدھ رات 1 بجے) ختم ہوگی۔ اسرائیلی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق 73 لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں، جن میں تقریباً 3 لاکھ 30 ہزار پہلی بار ووٹ دے رہے ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں میں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے دائیں بازو کے اتحادیوں اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں حریف اتحاد کے درمیان سخت مقابلہ دکھایا گیا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنی جنگی قیادت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلق کو انتخابی مہم کا مرکز بنایا، جو ان کی حمایت کر چکے ہیں۔ آئزنکوٹ نے نیتن یاہو پر "خوف، جھوٹ اور دھمکیوں کی مہم" چلانے کا الزام لگایا ہے۔
حکومت سازی کا پیچیدہ حساب
دونوں میں سے کسی کے پاس 120 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت کا واضح راستہ نہیں۔ نیتن یاہو کو ایک بار پھر انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں اتمار بن گویر اور بزالیل سموٹرچ پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جن پر بعض مغربی ملکوں نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد بھڑکانے کے الزام میں پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ اگر کوئی بھی اتحاد نہ بنا سکا تو نیتن یاہو اگلے سال نئے انتخابات تک نگران وزیر اعظم رہ سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عرب اقلیت کا زیادہ ٹرن آؤٹ آئزنکوٹ کے حق میں جا سکتا ہے، اگرچہ وہ عرب جماعتوں سے اتحاد کو مسترد کر چکے ہیں۔ آئزنکوٹ بھی دو ریاستی حل کے مخالف ہیں، تاہم وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے تشدد پر تنقید کرتے ہیں۔ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں وہاں 74 ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ نتائج بدھ کی صبح تک آنا شروع ہوں گے۔
