وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت اس طریقے کو ختم کرنے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت ماہانہ 200 یونٹ سے صرف ایک یونٹ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارف کو بھی چھ ماہ تک مہنگے نرخوں پر بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سینیٹ میں بتایا کہ موجودہ 200 یونٹ کی حد بڑھا کر 250 یونٹ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
یہ معاملہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر عابد شیر علی نے توجہ دلاؤ نوٹس کے ذریعے اٹھایا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ 201 یونٹ استعمال کرنے والے صارف سے 400 یونٹ والے سلیب کے نرخ کیسے وصول کیے جا سکتے ہیں، اور کہا کہ یہ نظام کم آمدنی والے گھرانوں پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔
وزیر توانائی کے مطابق 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس زمرے کے تمام صارفین کو رعایت دینا مناسب نہیں، کیونکہ کئی گھروں میں سولر سسٹم لگے ہیں جس سے ان کا گرڈ پر انحصار کم ہو گیا ہے۔ ان کے بقول حکومت ریلیف کا رخ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے صارفین کی طرف رکھے گی۔
اسلام آباد میں نیشنل انرجی سمٹ 2026 سے خطاب میں اویس لغاری نے بتایا کہ ملک میں بجلی کی مسابقتی منڈی متعارف کرا دی گئی ہے اور حکومت مزید بجلی نہیں خریدے گی۔ ان کے مطابق ایک میگاواٹ تک کے صارفین براہِ راست بجلی خرید سکیں گے، آئندہ مہینوں میں تقریباً 400 میگاواٹ بجلی اس نظام کے تحت ٹرانسمیشن گرڈ کو منتقل ہوگی، اور وہیلنگ چارجز 28 روپے سے کم کر کے تقریباً 11 سے 12 روپے فی یونٹ کر دیے گئے ہیں۔
اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو لاکھوں گھرانوں کو ایک یونٹ کی وجہ سے چھ ماہ کے مہنگے بلوں کے خوف سے نجات مل سکتی ہے، تاہم حکومت نے ابھی اس کا کوئی حتمی فیصلہ یا تاریخ نہیں بتائی۔
