مواد پر جائیں

سعودی ریفائنری پر حملے کا دعویٰ، تیل مہنگا

یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو میزائل سے نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد بدھ کو برینٹ خام تیل 1.3 فیصد اضافے سے 115.36 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

عالمی منڈی میں بدھ کو تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئیں، جب یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کو میزائل سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس دعوے نے ایران اور اس کے اتحادی گروہوں سے جاری تنازع کے باعث مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے خدشات پھر تازہ کر دیے۔

ذرائع کے مطابق برینٹ خام تیل کے سودے 1.48 ڈالر یعنی 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 115.36 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.22 ڈالر بڑھ کر 101.12 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔ اس سے ایک روز قبل خطے میں جاری سفارتی بات چیت کی امید پر قیمتیں تقریباً دو ڈالر گر گئی تھیں۔

حوثیوں نے منگل کو دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے یومیہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل کی گنجائش رکھنے والی ریفائنری کو نشانہ بنایا ہے، تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی۔ سعودی عرب دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق تیل پیدا کرنے والے ممالک کا گروپ اوپیک پلس اتوار کے اجلاس میں دسمبر کے لیے پیداواری اہداف میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا امکان ہے۔ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں 23 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران معمولی اضافے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی قیمتوں میں ہر اضافہ درآمدی بل اور مقامی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھاتا ہے، اسی لیے خلیج کی صورت حال پر منڈیوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

ذرائع

تصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-28-oil-rises-houthi-claim-saudi-refinery?lang=ur

مزید پڑھیں

اگلا قدم

کاروبار کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں