وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کی ان کے ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ دونوں منصوبے مقررہ مدت میں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق ایئرپورٹس کی توسیع اور مسافروں کی سہولت سے متعلق اجلاس میں ایک بین الاقوامی فرم کے حالیہ سروے کے نتائج کا جائزہ لیا گیا، جس میں بڑے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو دی جانے والی سہولیات کا معیار جانچا گیا تھا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کی سہولت اولین ترجیح رہنی چاہیے اور تعمیر کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے ایئرپورٹس پر اصلاحات کی تھرڈ پارٹی تصدیق، معروف بین الاقوامی اداروں کی خدمات حاصل کرنے، مسافروں سے واسطہ رکھنے والے عملے کی باقاعدہ تربیت اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ہدایت بھی کی۔ کھانے پینے کے معیار پر بھی انہوں نے واضح کیا کہ ایئرپورٹس پر صرف معروف کیٹررز رکھے جائیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے کی توسیع مکمل ہو چکی ہے، جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے گزشتہ ایک سال میں اندرونِ ملک پروازوں کی بحالی کے لیے 14 ہوائی اڈے فعال کیے ہیں۔ بڑے ایئرپورٹس پر خودکار بارڈر مینجمنٹ کے ای گیٹس کی تنصیب تیزی سے جاری ہے اور کراچی کو فضائی کارگو کا مرکز بنانے کے لیے ایئر کارگو ولیج پر بھی کام ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر میٹ اینڈ گریٹ سروس شروع کی گئی ہے، جبکہ ایف آئی اے نے بڑے ہوائی اڈوں پر روانگی سے پہلے رہنمائی کے ڈیسک قائم کیے ہیں اور عملے اور کاؤنٹرز کی تعداد بڑھا دی ہے تاکہ مسافروں کو قطاروں میں کم انتظار کرنا پڑے۔
