ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کولاچی میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے منسوب ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قدیر نامی ایک شخص کو بدھ کے روز نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ مقتول فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے لیے کام کرتا تھا، ڈرون آپریٹرز کو ٹھکانوں کی معلومات فراہم کرتا اور چھاپوں میں مدد دیتا تھا۔ بیان میں اسے کئی عسکریت پسندوں کی ہلاکت میں ملوث بھی قرار دیا گیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات، مقتول کی شناخت اور اس پر لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ پاکستانی حکام کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔
ڈیرہ اسماعیل خان ان بارہ اضلاع میں شامل ہے جنہیں وفاقی حکومت نے گیارہ اکتوبر کو ایمرجنسی کے تحت خصوصی انتظام میں دیا تھا، اور حالیہ ہفتوں میں یہاں سے ٹارگٹ کلنگ اور ڈرون حملوں کی اطلاعات تواتر سے آ رہی ہیں۔
