الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے ان 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے جہاں حلقہ بندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے بدھ کو یہ حکم جاری کیا اور سیکریٹریٹ کو انتخابی شیڈول منظوری کے لیے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
جن اضلاع میں انتخابات ہوں گے ان میں پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی، کوہاٹ، ایبٹ آباد، ہری پور، بٹگرام، تورغر، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، کولئی پالس، بونیر، لوئر چترال، لوئر دیر اور اپر دیر شامل ہیں۔
بنوں، مہمند، اورکزئی، لکی مروت، ٹانک اور شمالی وزیرستان میں حلقہ بندی تو مکمل ہے، مگر یہ اضلاع اُن بارہ اضلاع میں شامل ہیں جنہیں وفاقی حکومت نے گیارہ اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے وقت 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے سپرد کیا تھا، اس لیے انہیں فی الحال اس حکم سے باہر رکھا گیا ہے۔
صوبے میں بلدیاتی اداروں کی چار سالہ مدت اس سال مارچ اور جون میں ختم ہو چکی ہے۔ الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 219(4) کے تحت کمیشن مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ سوات میں حلقہ بندی ضلع کی تقسیم کے اعلان کے بعد روک دی گئی تھی۔
