امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے منگل کی رات کانگریس کے دونوں ایوانوں، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان، کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ری پبلکن پارٹی کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جو 2024 کے انتخابات کے بعد سے وائٹ ہاؤس اور کانگریس دونوں پر قابض تھی۔
ذرائع کے مطابق 100 رکنی سینیٹ میں اکثریت کے لیے ڈیموکریٹس کو چار نشستوں کا خالص اضافہ درکار تھا، مگر منگل کی رات تک وہ کم از کم سات نشستیں جیت چکے تھے اور ان کی مجموعی تعداد کم از کم 53 ہو گئی ہے۔ کئی نتائج غیر متوقع رہے: ٹیکساس میں جیمز تالاریکو نے ریاستی اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو ہرایا، کنساس میں 1932 کے بعد پہلی بار کوئی ڈیموکریٹ سینیٹر منتخب ہوا، جبکہ مین میں ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دی۔ اوہائیو، آئیووا، جنوبی کیرولائنا اور شمالی کیرولائنا میں بھی ڈیموکریٹس نے ری پبلکن نشستیں چھین لیں۔ جارجیا اور نارتھ کیرولائنا کے نتائج یہاں پڑھیں۔
ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے، جہاں ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے پانچ نشستیں درکار تھیں۔ ایوان کا فیصلہ بھی ان کے حق میں آ گیا ہے، جس کے بعد نیویارک سے رکن حکیم جیفریز کے اسپیکر بننے کا امکان ہے۔ وہ اس عہدے پر پہنچنے والے پہلے سیاہ فام امریکی ہوں گے اور ری پبلکن اسپیکر مائیک جانسن کی جگہ لیں گے۔ نئی کانگریس 3 جنوری 2027 کو حلف اٹھائے گی۔
صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ڈیموکریٹس نے ’’اچھا کام کیا‘‘ اور ’’سخت مقابلہ کیا‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیٹرول مہنگا ہونے نے بھی ری پبلکن شکست میں کردار ادا کیا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’میں بیلٹ پر نہیں تھا، ورنہ ہم بھاری اکثریت سے جیتتے۔‘‘ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ’’احمقانہ‘‘ بلوں کو ویٹو کریں گے، مگر ساتھ ہی کہا کہ چند ماہ بعد دونوں فریق مل کر کام کریں گے۔ اب صدر کو اپنی مدت کے باقی دو برس ایک مخالف کانگریس کے ساتھ گزارنے ہوں گے۔
