شمالی کوریا نے بدھ کو ایک بار پھر کئی میزائل فائر کیے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق یہ میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحل پر واقع سونڈوک کے علاقے سے بحیرۂ جاپان کی جانب داغے گئے، اور جنوبی کوریا اور امریکا کے حکام ان کی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ ایک ماہ کے دوران پیانگ یانگ کا چوتھا ہتھیاروں کا تجربہ ہے، اور یہ ایسے وقت ہوا ہے جب ایک روز پہلے شمالی کوریا نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائنانس سے 6 ارب ڈالر سے زائد کی چوری میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات کو مسترد کیا تھا۔ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے اس چوری کا ذمہ دار شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو قرار دیا تھا۔
شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے بدھ کی صبح کہا کہ ایف بی آئی کا اعلان امریکا کی ’’مستقل معاندانہ پالیسی‘‘ کا تسلسل ہے، اور جب تک واشنگٹن یہ پالیسی ترک نہیں کرتا، اس سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہمیں ایسے ناقابلِ اعتبار اور معاندانہ لوگوں کے ساتھ آمنے سامنے بیٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
شمالی کوریا نے رواں سال ہتھیاروں کے تجربات تیز کر دیے ہیں، جن میں آبدوز سے داغا جانے والا بیلسٹک میزائل، ہائپرسونک میزائل اور حملہ آور ڈرون شامل ہیں۔ منگل کو اس نے اسٹریٹجک کروز میزائلوں کے لیے ایک نئے کلسٹر وار ہیڈ کے تجربے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ صدر ٹرمپ اگست میں کہہ چکے ہیں کہ وہ رواں سال کم جونگ اُن سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔
