کسی شہر کی ترقی کو صرف نئی سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے ناپنا آسان ہے۔ لیکن ایک سوال ایسا ہے جس کے سامنے ترقی کے تمام دعوے امتحان بن جاتے ہیں: اگر ان عمارتوں میں رہنے والوں کے لیے پینے کا صاف پانی ہی نہ بچے تو سڑکیں کس کام آئیں گی؟
کابل کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پشتو تحریر نے یہی سوال اٹھایا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس برس میں شہر کے زیرِ زمین پانی کی سطح 25 سے 30 میٹر تک گر چکی ہے اور 2030 تک آبی ذخائر کے خشک ہونے کا اندیشہ ہے۔ بہت سے قارئین کو یہ دعویٰ مبالغہ محسوس ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کی بنیاد محض افواہ نہیں، ایک سنجیدہ تحقیقی رپورٹ ہے۔
اپریل 2025 میں بین الاقوامی امدادی ادارے مرسی کور نے کابل کے آبی بحران پر رپورٹ شائع کی۔ اس کے مطابق شہر کے زیرِ زمین آبی ذخائر کی سطح ایک دہائی میں 25 تا 30 میٹر کم ہوئی، جبکہ ہر سال قدرتی طور پر واپس جمع ہونے والے پانی سے تقریباً چار کروڑ چالیس لاکھ مکعب میٹر زیادہ پانی نکالا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد غیر منظم بورویل موجود ہیں اور تقریباً نصف کنویں خشک ہونے کی اطلاع ہے۔ ان اعداد کو ہر محلے کے ہر کنویں کی الگ پیمائش نہیں سمجھنا چاہیے، مگر یہ پورے شہر کے لیے ایک خطرناک رجحان کی نشان دہی کرتے ہیں۔
سب سے زیادہ تشویش پیدا کرنے والی بات 2030 کی پیش گوئی ہے۔ یہاں ایک ضروری فرق سمجھنا ہوگا: یہ تاریخ کسی یقینی سائنسی اعلان کا نام نہیں کہ یکم جنوری 2030 کو کابل کا آخری کنواں بھی خشک ہوجائے گا۔ یہ موجودہ رفتار سے پانی نکالنے اور ناکافی بھرپائی جاری رہنے کی صورت میں شدید بحران کا مشروط تخمینہ ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سے خاندانوں کے لیے پانی کی دستیابی عملاً ختم ہوسکتی ہے، خواہ زمین کی گہرائی میں کچھ پانی باقی ہو۔
اور یہ صرف مقدار کا بحران نہیں۔ مرسی کور نے موجودہ شواہد کی بنیاد پر اندازہ دیا کہ کابل کے زیرِ زمین پانی کا بڑا حصہ، بعض تخمینوں میں 80 فیصد تک، نکاسیٔ آب کے فضلے اور آرسینک یا نائٹریٹ جیسے آلودہ مادوں سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اس شرح کو پورے شہر کے ہر نلکے پر یکساں لاگو کرنا درست نہیں؛ تاہم مسئلہ صاف ہے: پانی مل بھی جائے تو کیا وہ پینے کے قابل ہے؟
بحران کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ کابل کی آبادی اور پانی کی طلب بڑھی ہے، بے قاعدہ کنوؤں کی کھدائی نے آبی ذخائر پر دباؤ بڑھایا ہے، خشک سالی اور بدلتے موسم نے برف اور بارش سے ہونے والی قدرتی بھرپائی متاثر کی ہے۔ پھر شہری پھیلاؤ نے کھلی زمین کو کنکریٹ میں بدل دیا۔ جب پانی زمین میں اترنے کے بجائے نالیوں سے بہہ جاتا ہے تو آنے والی نسلوں کا ذخیرہ بھی کمزور ہوجاتا ہے۔
ایسے حالات میں کیا کابل میں سڑکیں بنانا غلط ہے؟ نہیں۔ سڑک، نکاسیٔ آب، ہسپتال اور رہائش بھی شہری ضرورتیں ہیں۔ مسئلہ تعمیر نہیں، ترجیحات اور منصوبہ بندی کا ہے۔ اگر نئی آبادیوں کے لیے گھروں کی منظوری تو دی جاتی رہے مگر صاف پانی کا مستقل ذریعہ، گندے پانی کا انتظام اور آبی اثرات کی جانچ نہ ہو، تو آج کی تعمیر کل کا بوجھ بن سکتی ہے۔ معقول شہری ترقی وہ ہے جو پانی کے حساب سے ہوتی ہے، پانی کو نظر انداز کرکے نہیں۔
یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ حکام نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ افغانستان کی وزارتِ آب و توانائی نے 30 ستمبر 2026 کو کاپیسا کے سیاد علاقے سے کابل اور نئے کابل کو پانی منتقل کرنے کے منصوبے کے تکنیکی مطالعات، سروے اور ڈیزائن کا آغاز کیا۔ وزارت کے اعلان کے مطابق مجوزہ نظام سالانہ 12 کروڑ 60 لاکھ مکعب میٹر پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے اور اس سے 70 لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ لیکن ابتدائی مطالعات اور ڈیزائن کے لیے ہی تقریباً 18 ماہ مقرر کیے گئے ہیں۔ اس لیے یہ اعلان پانی کی فوری فراہمی کے برابر نہیں، اور نہ مجوزہ صلاحیت کو آج دستیاب پانی سمجھا جاسکتا ہے۔ نئے مقام سے پانی نکالنے کے ماحولیاتی اور سماجی اثرات بھی آزادانہ جانچ مانگتے ہیں۔
اب ضرورت ایک ایسے آبی ہنگامی منصوبے کی ہے جو تصویروں اور افتتاحوں کے بجائے قابلِ پیمائش نتائج دے۔ پہلے قدم پر کابل کے بڑے، تجارتی اور صنعتی بورویل کی رجسٹریشن اور پانی کے استعمال کی پیمائش ہونی چاہیے۔ جہاں پانی ضرورت سے زیادہ نکالا جا رہا ہے وہاں حد مقرر کی جائے، لیکن غریب گھرانوں کو متبادل فراہمی دیے بغیر اچانک محروم نہ کیا جائے۔
دوسرا قدم زیرِ زمین ذخائر کی بھرپائی ہے۔ مناسب مقامات پر بارش اور موسمی بہاؤ محفوظ کرکے صاف پانی زمین میں پہنچایا جاسکتا ہے؛ اس کے لیے سائنسی نقشہ بندی اور آلودگی سے تحفظ بنیادی شرط ہیں۔ تیسرا کام پائپ لائنوں، فلٹریشن اور قابلِ اعتماد شہری تقسیم کا ہے تاکہ ہر گھر اپنا الگ گہرا کنواں کھودنے پر مجبور نہ ہو۔ پنجشیر سے پانی کی منتقلی اور شاہ توت جیسے زیرِ بحث منصوبوں کی افادیت بھی اسی جامع تناظر میں، لاگت اور ماحولیاتی اثرات جانچ کر طے کی جانی چاہیے۔
چوتھا قدم گندے پانی کو مسئلے کے بجائے قابلِ انتظام وسیلہ بنانا ہے۔ صاف کیے گئے پانی کو مناسب معیار کے ساتھ باغبانی اور بعض صنعتی استعمال میں لایا جائے تاکہ پینے کے صاف پانی پر غیر ضروری دباؤ کم ہو۔ پانچواں اور شاید سب سے اہم قدم شفافیت ہے: کابل کے ہر ضلع میں پانی کی سطح، معیار، نکاسی کی مقدار اور نئے منصوبوں کی پیش رفت باقاعدگی سے عوام کے سامنے رکھی جائے۔
حکومت کے لیے یہ عوام سے اعتماد کا معاملہ ہے، شہریوں کے لیے بقا کا اور امدادی اداروں کے لیے فوری ترجیح کا۔ کسی ایک ڈیم، ایک گہرے کنویں یا ایک غیر ملکی منصوبے سے پورا بحران حل نہیں ہوگا۔ پانی کی طلب کم کرنا، موجودہ ذخائر کو محفوظ رکھنا اور پائیدار نئی فراہمی پیدا کرنا تینوں کام ساتھ کرنا ہوں گے۔
کابل کے رہنے والوں کی یہ شکایت بجا ہے کہ انہیں صرف سڑکوں کی لمبائی نہیں، پانی کی ضمانت بھی چاہیے۔ شہر کا مستقبل اس بات سے نہیں طے ہوگا کہ آج کتنے نئے راستے کھلے؛ اس سے طے ہوگا کہ دس سال بعد ان راستوں کے کنارے آباد گھروں میں صاف پانی ہوگا یا نہیں۔
کابل کو عمارتوں سے پہلے، اور عمارتوں کے ساتھ، پانی چاہیے۔ یہی ترقی کا اصل امتحان ہے۔
