مارگلہ نیوز | خصوصی تحقیقی جائزہ
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی کی جڑ صرف ایک عسکری تنظیم نہیں۔ اس بحران میں سرحد، قومی شناخت، علاقائی رقابت، تجارت اور ایک طویل جنگ کی یادداشت بھی شامل ہے۔ سابق افغان سفارت کار زردشت شمس نے 31 جولائی 2026 کو الجزیرہ میں اسی وسیع پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے فضائی حملوں اور اسٹریٹجک ترجیحات پر تنقیدی مضمون لکھا۔ ان کا استدلال ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کا خطرہ موجود ہے مگر دونوں ملکوں کے تنازع کو صرف اسی ایک نام سے سمجھنا ناکافی ہوگا۔
شمس کی بحث کا ایک مرکزی نکتہ افغانستان کے بارے میں پاکستان کی تاریخی سوچ ہے۔ سوویت دور سے لے کر 2001 کے بعد کی جنگ اور پھر اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار تک، مختلف پاکستانی حکمرانوں نے افغانستان کی سلامتی کو بھارت سے رقابت اور مغربی سرحد کے تحفظ سے جوڑ کر دیکھا۔ شمس کے مطابق اسی سوچ کے باعث کابل کے اندرونی سیاسی معاملات پاکستان کی قومی سلامتی کے مباحث کا مستقل موضوع بنے رہے۔
اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ گروہوں نے شہریوں، پولیس اور فوج پر سنگین حملے کیے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ بعض حملہ آور افغان سرزمین میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتے ہیں، جبکہ طالبان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ متنازع الزامات کے لیے انفرادی واقعات کے قابلِ جانچ شواہد درکار ہوتے ہیں؛ سرحد پار موجودگی کا دعویٰ اور افغان حکومت کی براہِ راست عملی معاونت ثابت ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔
زردشت شمس نے اپنے مضمون میں مارچ 2026 میں کابل کے ایک منشیات بحالی مرکز پر حملے کے بعد سامنے آنے والے انسانی نقصانات کا حوالہ دیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس شہری ہلاکتوں، تحقیقات اور جواب دہی کی ضرورت کی طرف توجہ دلاتی رہی ہیں۔ یہ کہنا بھی اہم ہے کہ کسی ہدف کے بارے میں عسکری دعوے اور وہاں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی حقیقت دو الگ چیزیں ہیں؛ تحقیق کو دونوں کا احاطہ کرنا چاہیے۔
افغان شہری کے لیے حملے کا مطلب کسی دور افتادہ خارجہ پالیسی کی بحث سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ گھر تباہ ہونے، خاندان کے بچھڑنے، روزگار ختم ہونے اور ایک مستقل خوف میں زندگی گزارنے کا اثر نسلوں تک رہ سکتا ہے۔ پاکستانی عوام بھی خود شدت پسند حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان دونوں انسانی تجربات کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنے کے بجائے ہر شہری کے تحفظ کو بنیادی اصول بنانا ضروری ہے۔
شمس پاکستان کی بعض ریاستی پالیسیوں کو افغانستان پر سیاسی برتری قائم رکھنے کی کوشش کے طور پر پڑھتے ہیں۔ یہ ایک سخت اور قابلِ بحث تعبیر ہے، کوئی عدالتی طور پر ثابت شدہ نیت نہیں۔ پاکستان کے پالیسی ساز عام طور پر اپنی کارروائیوں کے جواز میں سرحدی سلامتی، مسلح حملے اور افغان حکام کے ساتھ نامکمل تعاون کا ذکر کرتے ہیں۔ ایک جامع تجزیہ دونوں مؤقف دکھائے اور یہ بھی پوچھے کہ کون سا طریقہ واقعی تشدد کم کر رہا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان کے ذریعے تجارت اور بندرگاہوں تک رسائی افغان معیشت کے لیے اہم رہی ہے۔ طویل سرحدی بندشیں دونوں ملکوں کے تاجروں کو نقصان پہنچاتی ہیں، مگر نسبتاً کمزور زمینی راستوں پر انحصار کرنے والے افغان کاروبار زیادہ غیر یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ایران اور وسطی ایشیا کے متبادل راستے افغانستان کے لیے معاشی تحفظ کا ایک ذریعہ ہیں؛ ان کی کامیابی کے لیے بھی بنیادی ڈھانچے اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہوگی۔
پاکستان میں پشتون اور بلوچ علاقوں کے سیاسی مطالبات پر شمس کی تنقید ایک اور حساس جہت شامل کرتی ہے۔ ان علاقوں میں شدت پسند حملے، ریاستی سلامتی اقدامات اور شہری آزادیوں کے سوال ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر ہر سیاسی کارکن کو مسلح گروہ سے وابستہ سمجھنا یا ہر سکیورٹی تشویش کو محض بہانہ کہنا درست نہیں۔ حقائق کی الگ جانچ ضروری ہے۔
بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت فوجی ضرورت شہریوں کے بلا امتیاز قتل کی اجازت نہیں دیتی۔ حملوں کے اہداف، احتیاطی اقدامات اور شہری نقصان کی متناسب حیثیت کی جانچ ایک منصفانہ تحقیق کا حصہ ہے۔ دوسری جانب مسلح گروہوں کی جانب سے شہریوں کو نشانہ بنانا بھی ناقابلِ قبول ہے، خواہ کوئی بھی سیاسی مقصد بیان کیا جائے۔
اس بحران سے نکلنے کا راستہ فوری طور پر قابلِ اعتماد سرحدی رابطہ، واقعے کی آزاد تحقیقات، تجارت و نقل و حرکت کے لیے پیشگی انتظامات، اور اس بات کی واضح ذمہ داری ہے کہ کوئی ملک اپنی سرزمین دوسرے کے خلاف مسلح حملوں کے لیے استعمال ہونے نہ دے۔ صرف زورِ بازو سے دونوں معاشروں کا باہمی اعتماد واپس نہیں آ سکتا۔
زردشت شمس کے مضمون کی اہمیت یہ ہے کہ وہ فوجی تصادم کے پیچھے پوشیدہ سیاسی و تاریخی تنازع کو سامنے لاتے ہیں۔ ان کی تمام تشریحات سے اتفاق کرنا ضروری نہیں؛ مگر ان کے اٹھائے ہوئے سوال—افغان خودمختاری، شہری سلامتی اور پاکستانی پالیسی کے طویل المدتی نتائج—مستند شواہد کے ساتھ سنجیدہ بحث کے مستحق ہیں۔
ماخذ اور اظہارِ تشکر: زردشت شمس کی تحقیق، تحریر یا گفتگو کی رہنمائی اور متعلقہ اصل ناشر کا شکریہ۔ یہ مارگلہ نیوز کا خود مرتب کردہ اصل اردو تجزیہ ہے، اصل انگریزی مضمون کا نقل شدہ متن یا مکمل ترجمہ نہیں۔ تمام منسوب آرا مصنف/ماہر کی ہیں، جبکہ آزادانہ نتیجے الگ واضح کیے گئے ہیں۔
