یہ ایک طنزیہ و تمثیلی رائے ہے۔ اس تحریر میں “مفتی عبدالرحیم” نام ایک علامتی کردار کے طور پر استعمال ہوا ہے؛ اسے کسی مخصوص حقیقی شخص کے خلاف ثابت شدہ الزامات کا بیان نہ سمجھا جائے۔
مفتی عبدالرحیم پہلے عالم تھے، پھر مشیر بنے، پھر دربار کے بندے، اور آخر میں ایسی مہر بن گئے جو حاکم کے ہر فیصلے پر لگ سکتی تھی۔
ان کا کمال یہ تھا کہ غریب کے لیے دین بہت سادہ تھا اور طاقتور کے لیے بہت پیچیدہ۔
غریب غلطی کرے: حرام۔
افسر کرے: دیکھنا پڑے گا۔
وزیر کرے: علماء میں اختلاف ہے۔
حاکم کرے: معاملہ حساس ہے، پوری حقیقت سامنے نہیں۔
بس یہی وہ مقام ہے جہاں علم، علم نہیں رہتا، سروس بن جاتا ہے۔
مفتی صاحب کو غریب کی داڑھی، عورت کے کپڑے، نوجوان کا موبائل اور دکاندار کے دس روپے فوراً نظر آ جاتے تھے۔
لیکن حاکم قانون کو جیب میں ڈال لے تو مفتی صاحب فوراً فرماتے:
“معاملہ اتنا سادہ نہیں۔”
یہ جملہ بڑا کمال کا ہے۔
اس ایک جملے کے نیچے ظلم بھی چھپ جاتا ہے، جھوٹ بھی، زیادتی بھی اور ضمیر بھی۔
مفتی عبدالرحیم فرعون پر گھنٹوں بول سکتے تھے۔
کیونکہ فرعون مر چکا ہے۔
نمرود پر بھی بول سکتے تھے۔
کیونکہ اس کا کوئی پروٹوکول نہیں۔
یزید پر بھی تقریر ہوسکتی ہے۔
کیونکہ وہ پروگرام میں مہمانِ خصوصی بن کر نہیں بیٹھا۔
مسئلہ صرف آج کے طاقتور سے ہوتا ہے۔
اس کا نام لینا بدتمیزی۔
اس سے سوال کرنا فتنہ۔
اس کی مخالفت انتشار۔
اور اس کی حمایت؟
قومی مفاد۔
مفتی صاحب عوام کو ہمیشہ یاد دلاتے تھے کہ دنیا فانی ہے۔
بس حاکم کو کبھی یہ نہیں بتایا کہ کرسی بھی فانی ہے۔
غریب آتا تو کہتے: صبر کرو۔
مظلوم آتا تو کہتے: اللہ بڑا اجر دے گا۔
نوجوان سوال کرے تو کہتے: تم ابھی نادان ہو۔
وزیر آئے تو کہتے: اللہ آپ کو استقامت دے۔
بڑا عجیب نظام تھا۔
صبر ہمیشہ نیچے والوں کے لیے۔
دعائیں ہمیشہ اوپر والوں کے لیے۔
اور اگر کوئی پوچھ لے: حضرت! ظلم پر کچھ کہیں؟
فوراً جواب:
“بیٹا، حالات کی نزاکت سمجھو۔”
یہ نزاکت بھی عجیب چیز ہے۔
مدرسے میں سمجھ نہیں آتی۔
دربار کے دروازے سے اندر جاتے ہی سمجھ آ جاتی ہے۔
پھر مفتی صاحب نے ایک اور زبردست ہنر سیکھ لیا: اصل سوال کا جواب کبھی نہ دو۔
لوگ پوچھیں: قانون کیوں توڑا گیا؟
وہ کہیں: اتحاد کی ضرورت ہے۔
لوگ پوچھیں: پیسہ کہاں گیا؟
وہ کہیں: فضول خرچی سے بچیں۔
لوگ پوچھیں: ظلم کیوں ہوا؟
وہ کہیں: نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہے۔
یعنی گھر میں آگ لگی ہو اور حضرت بیٹھ کر یہ بتا رہے ہوں کہ ماچس بچوں کی پہنچ سے دور رکھنی چاہیے۔
دربار کو بھی ایسے لوگ بہت پسند ہوتے ہیں۔
تقریب ہو تو دعا کے لیے بلا لو۔
بحران ہو تو بیان کے لیے۔
عوام غصے میں ہوں تو صبر سمجھانے کے لیے۔
حکومت پھنس جائے تو “ملک نازک دور سے گزر رہا ہے” بولنے کے لیے۔
اور سب سے مزے کی بات؟
مفتی صاحب خود کو کبھی درباری نہیں سمجھتے۔
وہ کہتے ہیں: “ہم اندر رہ کر اصلاح کرتے ہیں۔”
پتہ نہیں کیسی اصلاح ہے کہ سالوں سے اندر ہیں، مگر ٹھیک ہمیشہ باہر والوں کو ہی کیا جا رہا ہے۔
دربار وہی ہے۔
مفتی صاحب بدلتے گئے۔
پہلے لہجہ۔
پھر دوست۔
پھر محفل۔
پھر موقف۔
اور آخر میں ضمیر۔
لیکن چونکہ ضمیر تصویر میں نظر نہیں آتا، اس لیے لوگوں کو دیر سے پتہ چلتا ہے۔
وہ کہتے ہیں: “ہم حکمران کے سامنے حق کہتے ہیں۔”
لوگ پوچھتے ہیں: کب؟
جواب: “نجی مجلس میں۔”
یہ نجی مجلس بھی بڑی زبردست جگہ ہے۔
وہاں وہ تمام سچی باتیں ہوتی ہیں جن کا نہ کوئی ویڈیو ہوتا ہے، نہ آڈیو، نہ گواہ۔
عوامی جلسے میں تعریف۔
نجی مجلس میں مبینہ ڈانٹ۔
تصویر میں مسکراہٹ۔
بعد میں دعویٰ: “ہم نے بہت سخت بات کی تھی۔”
یعنی بندہ درباری بھی رہے، حق گو بھی کہلائے۔
مفتی عبدالرحیم کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک وقت کے بعد وہ اپنے مفاد کو مصلحت، اپنے خوف کو حکمت اور اپنی خاموشی کو تقویٰ سمجھنے لگتے ہیں۔
یہاں مسئلہ خطرناک ہو جاتا ہے۔
سپاہی کہتا ہے: مت بولو۔
درباری ملا کہتا ہے: بولنا فتنہ ہے۔
سپاہی جسم کو ڈراتا ہے۔
درباری ملا ضمیر کو۔
سپاہی کو بندوق چاہیے۔
مفتی صاحب کو مائیک کافی ہے۔
اور دربار یہی چاہتا ہے۔
ایسا عالم جو ظلم کو ظلم نہ کہے، بلکہ اس کی “وضاحت” شروع کر دے۔
جو حاکم کو آئینہ نہ دکھائے، آئینے پر کپڑا ڈال دے۔
جو مظلوم سے کہے: صبر کرو۔
اور ظالم سے کہے: اللہ آپ کو سلامت رکھے۔
پھر آخر میں ہاتھ اٹھا کر دعا بھی کرے:
“یا اللہ ہمیں حق کو حق سمجھنے کی توفیق دے۔”
سامنے حاکم آمین کہتا ہے۔
وزیر آمین کہتا ہے۔
افسر آمین کہتے ہیں۔
شاگرد آمین کہتے ہیں۔
اور حق شاید باہر کھڑا سوچ رہا ہوتا ہے:
بھائی، پہچانا تو سب نے تھا...
بس کسی کو میری قیمت دینا منظور نہیں تھا۔
